ان پر عائد بعض الزامات کا تعلق اس وقت سے تھا جب وہ صرف 14 سال کے تھے۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق، ان کی پھانسی پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حسن زکی الفرج کو 2017 میں سعودی عرب کی شیعہ اقلیت کے حقوق کے لیے احتجاجی مظاہروں اور دیگر سرگرمیوں میں مبینہ شرکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

2022 میں خصوصی فوجداری عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، دورانِ حراست تشدد، طویل تنہائی اور زبردستی اعترافی بیان لینے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ سعودی عرب نے 2020 میں نابالغی کے دوران کیے گئے جرائم پر سزائے موت ختم کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا تھا، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بعض مقدمات میں یہ سزا اب بھی دی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے 23 اکتوبر کو ان کی پھانسی کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کم عمری میں مبینہ جرائم کے الزام میں سزائے موت کا سامنا کرنے والے دیگر افراد کی پھانسی روکی جائے۔ دوسری جانب، سعودی وزارت داخلہ نے حسن زکی الفرج سمیت پانچ افراد پر دہشت گردی اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں سمیت مختلف الزامات عائد کیے تھے۔

مزید خبریں