سعودی عرب میں 15 سال کی عمر مکمل کرنے والے نوجوانوں کو مخصوص شرائط کے تحت کاروبار کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ سعودی کابینہ نے تجارتی لین دین کے نئے قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد تجارتی سرگرمیوں کو منظم کرنا، کاروباری تنازعات کو کم کرنا اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا ہے۔ سعودی اخبار المدینہ کے مطابق، وزارتِ تجارت نے وضاحت کی ہے کہ نئے قانون کے تحت 15 سال کی عمر مکمل کرنے والے نابالغ افراد اپنے سرپرست یا قانونی وصی کی اجازت سے کاروبار کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ متعلقہ عدالت کی اجازت سے بھی انہیں تجارت کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ نئے قانون میں کیا شامل ہے؟ وزارتِ تجارت کے مطابق، تجارتی لین دین کا نیا قانون مجموعی طور پر 271 دفعات پر مشتمل ہے۔

اس میں تجارتی سرگرمیوں، تاجروں کی ذمہ داریوں، کاروباری اداروں، حسابات کے ریکارڈ، تجارتی معاہدوں اور مالی دستاویزات سے متعلق ضوابط شامل ہیں۔ نئے قانون کے تحت تجارتی معاہدوں، سامان کی فروخت، سپلائی، تجارتی ایجنسی اور کاروباری ثالثی سے متعلق معاملات کو ایک ہی قانونی دستاویز میں منظم کیا گیا ہے، تاکہ کاروباری افراد کے حقوق اور ذمہ داریوں کو واضح کیا جاسکے۔ تاجروں کے حقوق کا تحفظ نئے قانون میں منصفانہ کاروباری مقابلے کو فروغ دینے اور حریف تاجروں کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کی روک تھام کے لیے بھی دفعات شامل ہیں۔ اگر کسی تاجر کو دوسرے تاجر کے غیر قانونی اقدام سے نقصان پہنچتا ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرکے نقصان دہ عمل رکوانے اور ہرجانے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ قانون کے تحت بعض تاجروں کو حسابات کا ریکارڈ رکھنے کی پابندی سے استثنیٰ بھی دیا گیا ہے، جبکہ ریکارڈ کو کاغذی یا الیکٹرانک شکل میں محفوظ رکھنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ قانون کب نافذ ہوگا؟ سعودی وزارتِ تجارت کے مطابق، نیا قانون سرکاری گزٹ میں شائع ہونے کے 180 دن بعد نافذ ہوگا۔ اس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو تحفظ فراہم کرنا، تجارتی تنازعات کو کم کرنا اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے میں مدد کرنا ہے۔

مزید خبریں